Wafa Ki Ek Adhoori Kahani – Dil Ko Rula Dene Wali Urdu Kahani


میرے ماضی کی کہانی خوشبوؤں کی کہانی ہے، جس کو میں محسوس تو کر سکتی ہوں ، چھو نہیں سکتی۔ اس کی یادیں بھی مجھ سے گریزاں ہوئی جاتی ہیں اور ماضی کا حصہ بنتی جاتی ہے۔ وہ مجھ سے بچھڑا تھا، تب منگل کا دن تھا اور جب بھی مجھ پر کوئی مشکل آتی ہے وہ منگل کا دن ہی ہوتا ہے۔ خشک پتوں کی سرسراہٹ اور تمہاری قربت کا احساس دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں۔ ہر بھیگی شام میں دل کے دریچوں میں ہر آہٹ پر گمان ہوتا ہے کہ شاید تم آئے ہو مگر نہیں ، وہ تم نہیں ہوتے کیونکہ جو دور چلے جاتے ہیں، وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ رات کے آخری پہر جب آنکھ کھلتی ہے تو میرے اندر کی سوئی ہوئی لڑکی پھر سے جاگ اٹھتی ہے اور میں محسوس کرنے لگتی ہوں کہ کل جو سورج نکلے گا، وہ ایک نیادن نیا سال، نئی امنگیں ملائے گا۔ میری تنہائیاں مرجائیں گی، مگر نہیں، ایسانہ ہو گا۔ ہو گا یہ کہ میری تنہائیاں مجھ سے لپٹ کر روئیں گی، نئے سورج کی کرنیں پھر مجھ سے پوچھیں گی کہ وہ گڑیا سی لڑکی، جو تمہارے ساتھ کمرے میں رہتی تھی ، اب کہاں گئی؟ اب میں چپ چاپ، سارا دن اسی کمرے میں رہ کر آنے والے وقت کا انتظار کرتی ہوں کہ تم کو بھی کچھ یاد آئے گا، میری باتیں ، وہ فقرے کہ بچھڑ کے تجھ سے میں تیری رفاقت کا ہر ایک پل بھلا دوں گی۔ میں تجھ کو بھول جاؤں گی۔ میں ان باتوں کو بھی کب کا بھول بیٹھی ہوں۔ میں جو ایک بہت ضدی قسم کی لڑکی ہوتی تھی، ساحل سمندر پر اُڑتی ریت اور تیز ہوائیں ، بکھرے بال لئے ، ریت کا گھروندا بناتی تھی، تو بہت ہی خوبصورت لگتی تھی۔ دیکھنے والوں کی نظر میں مجھ پر پڑتی تھیں۔ جہاں جاتی، ہر کوئی کہتا کہ آپ مجھ سے بات کریں۔ کیا تم میں کوئی سر جناب کے پر لگے ہیں ؟ اور اسی وجہ سے میں اپنے گھر سے کہیں نہیں جاتی تھی۔

ایک دن بڑی خالہ ہمارے گھر آئیں۔ سب سے خوشی خوشی ملیں۔ مجھ سے کہا کہ تم میری سگی بیٹی ہو۔ تب میں بہت خوش ہوئی تھی اس بات پر ، ہر ایک سے کہتی پھری کہ میں اپنی خالہ کی بیٹی ہوں ، اس لئے کہ مجھ کو اپنی خالہ سے بڑی محبت تھی، اتنی کہ بتا نہیں سکتی۔ میر ادل خالہ کے بچوں میں لگا رہتا، تبھی ہر سال ان کے ہاں جاتی تھی کہ ان کی سب سے بڑی بیٹی مجھ کو بہت پسند تھی۔ اس کا نام لبنیٰ تھا۔ اور امتیاز ، وہ بھی تو میری خالہ کا ہی بیٹا تھا، شوق چنچل اور نٹ کھٹ سا، جس نے بعد میں میرے دل میں بھی گھر کر لیا تھا۔ کبھی امی کے ساتھ اُن کے گھر جاتی، تو وہ مجھے بہت پیار کرتیں اور مجھ سے کہتیں کہ کچھ دن تو یہاں رہو نگین ! اور میں جواب دیتی، کیسے رہوں خالہ ! میں تو اسکول جاتی ہوں۔ مجھ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ چاہتی تھی بہت زیادہ تعلیم حاصل کروں ، اتنی کہ دوسروں کو بھی دوں۔ جب بھی موڈ اچھا ہوتا، سہیلیوں کی کاپیوں پر شعر لکھ دیتی۔ استانی کہتیں۔ نگینہ تم مشکل کی تو خوبصورت ہو اور شعر بھی اچھے لکھتی ہو۔ خالہ کے تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں تھیں۔ لبنیٰ کی شادی پر ہم گئے تو پتا چلا کہ محبت میں کیا کیا شرارتیں چلتی ہیں۔ امتیاز خبر نہیں کیوں مجھ سے اتنی محبت کرتا بھتا کہ ہر دم مجھ سے ہی مذاق کرتا رہتا تھا۔ نہیں جانتی تھی کہ اس کو ہر وقت اتنی کیوں تاکہ ہر سے میری فکر رہتی تھی۔ وہ میرے پاس بیٹھ کر بہت خوش ہوتا تھا اور میں زیادہ وقت اپنی دوست لبنی کے پاس بیٹھ کر گزارتی۔ وہ مجھ کو اچھی لگتی تھی۔ میری اور اس کی اتنی زیادہ دوستی تھی کہ ہم ایک دوسرے کے لئے جان دینے پر تیار تھے۔ ان دنوں میں آٹھویں میں پڑھتی تھی۔ میرا کزن امتیاز ، مجھ کو کہتا تھا کہ تم بہت مصروف ہو نگینہ ! کسی سے بات ہی نہیں کرتیں اور میں کہتی۔ آخر مجھ میں کیا بات ہے ، جو تم موقع پاتے ہی مجھ سے بات کرنا چاہتے ہو۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ ساتھ دوسری حالہ کا گھر تھا۔ ان کے ہاں جاتی تھی تو وہ وہاں بھی آجاتا۔ انہی دنوں میرے گھر کے حالات خراب ہو گئے۔ ابو وفات پاگئے ۔ ہم چھ بہن بھائی تھے۔ ہم سب چھوٹے چھوٹے تھے ، تو ہمارے گھر کا گزارہ بہت مشکل سے چلتا تھا۔ دادی ہمارے پاس رہتی تھیں، وہ ہمیں اپنے بھائی کے گھر لے گئیں ۔ ؟ گئیں ۔ ہم اب ان کے پاس رہنے گئے۔ نانا جان ہمیں خرچ بھیج دیتے تھے۔ میں اپنے ابو سے بہت محبت کرتی تھی اتنی کہ زیادہ وقت انہی کے پاس گزارتی تھی۔ ان سے دور کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اگر کوئی کچھ کہتا، تو میں کہتی کہ ہاں مجھ کو اپنے ابو سے بہت پیار ہے۔ ان سے باتیں کرتی اور شرارتیں کرتی، پھر وہ بھی بچھڑ گئے ہمیشہ کے لئے۔ ابو کی وفات کے بعد میں بیمار ہو گئی۔ رنگ پیلا پڑتا گیا۔ دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔ تب امی نے مجھے بڑی خالہ کے گھر بھیج دیا کہ وہاں جا کر میرا جی بہل جائے گا۔ کبھی کبھار زندگی کے کچھ لمحات اتنے قیمتی ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کی یاد بھلائے نہیں بھولتی۔ ان لمحات کی یاد ہمیشہ دل و دماغ میں ایک مہکتے گلاب کی مانند رچ بس جاتی ہے، جس کی خوشبو سے دل و جان معطر رہتے ہیں۔ اس خوشبو سے جسم کارواں رواں مہکتا ہے۔ یادوں کا یہ انمول خزانہ سب کے پاس نہیں ہوتا۔ یادیں البتہ سب کے ساتھ رہتی ہیں، کسی کے پاس آنسوؤں کی صورت میں اور کسی کے پاس مہکتے پھولوں کی شکل میں، لیکن کبھی کبھی یہ یادیں نوکیلے کانٹوں بھرے دشت جیسی بھی ہو جاتی ہیں ، تب بھی انسان ان کو بھلاتا نہیں ، دل سے لگائے رکھتا ہے کہ یہ یادیں کسی محبوب ہستی سے وابستہ ہوتی ہیں۔

وہ بڑا ہی خوشگوار دن تھا۔ ہر طرف سے بادل امد امڈ کر آرہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور باغ میں نازک سی شاخ پر ایک کلی بار بار زور زور سے جھوم رہی تھی۔ کبھی وہ اس پھول سے ٹکراتی تو کبھی اس پھول سے، کبھی زمین کی جانب جھک جاتی اور کبھی تن کر کھڑی ہو جاتی۔ وہ چھوٹی سی کلی بھی ایک دل رکھتی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ کھل جائے اور امتیاز، میرا کزن چاہتا تھا کہ میں اس سے بات کروں اور اس کی توجہ کا مرکز بنوں۔ وہ مجھ سے کچھ کہنے کے لئے بہت بے قرار رہتا تھا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ کلی کھلنے لگی اور ایک خوبصورت پھول کی شکل اختیار کرنے لگی۔
وہ کلی کسی کی نگاہ کا مرکز بن گئی تھی۔ دل ہی دل میں خوش تھی، تبھی وہ ایک تر و تازہ پھول میں بدل گئی۔ اب اس کے دل میں ایک ہی حسرت تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ مجھے کبھی کوئی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر نہ پھینک جائے، بلکہ اپنے دل میں چھپا لے۔ ایک دن امتیاز نے مجھ سے کہہ ہی دیا۔ نگینہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں کہنے لگی۔ کیوں نہیں ، بھائیوں کو بہنوں سے محبت ہوتی ہی ہے۔ اس نے کہا۔ نہیں میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، کچی دوستی، جو زندگی بھر تمہارے کام آئے۔ یوں وہ میرے قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ قریب تو تم پہلے بھی تھے ، اب بھی ہو اور ہمیشہ رہوگے۔ یہ نہ ہو کہ کبھی تم مجھ کو بھول جاؤ اور ایک پھول کی مانند مجھے توڑنے کی کوشش کرو تو میں ٹوٹ کر بھر جاؤں۔ میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں۔ میں لیتی سے کوئی بات نہیں چھپاتی تھی۔ جو بات امتیاز مجھ سے کہتا، میں اس کو بتا دیتی تھی۔ یہ سلسلہ ایک سال تک چلتا رہا۔ وہ مجھے دیکھے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتا تھا۔ رات کو بہت جلد گھر آجاتا اور میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ ایک دن حالہ نے کہا۔ امتیاز تمہاری جانب بہت توجہ دیتا ہے۔ آخر کیا بات ہے؟ میں نے کہا۔ میں نہیں جانتی۔ خالہ بولیں۔ دیکھو، وہ کام بھی اب دل لگا کر نہیں کرتا ، ہر وقت گھر ہی رہتا تھا۔ یہ سن کر میں پریشان ہو گئی۔ کہیں خالہ یہ نہ سوچیں کہ میں نے امتیاز کو باتوں میں لگا رکھا ہے اور نکما کر دیا ہے۔ وہ کہتا۔ میں تمہیں ایک چیز دینا چاہتا ہوں۔ کیا چیز ہے وہ ؟ وہ تمہارے گلے ے میں ڈالنا چاہتا ہوں۔ کہاں ہے وہ چیز ؟ وہ ہار تھا۔ یہ میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے پہنانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا۔ امتیاز ابھی یہ وقت نہیں آیا۔ تم صرف اپنے کام کی طرف دھیان دو۔ زیادہ توجہ کام پر دیا کرو۔ جب تم کامیاب ہو جاؤ گے، تو میں تم سے گفٹ لیتی بھی اچھی لگوں گی۔ میں اکثر وقت تھکن محسوس کرتی تھی۔ کبھی بستر پر لیٹ جاتی اور کبھی کہیں بیٹھ جاتی۔ لگتا تھا کہ ہڈی ہڈی دکھ رہی ہے۔ ملنے والے کہتے کہ مجھ کو عشق ہو گیا ہے اور مجھ میں کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں۔ میں خود سمجھ نہیں پاتی تو کسی کو کیا بتاتی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ امتیاز ہر وقت اپنے دوستوں میں رہتا تھا اور میں اس کو وہ راستہ بتانا چاہتی تھی، جو ہر خیر خواہ کہتا ہے کہ تم ہمیشہ کامیاب رہو۔ یوں امت پیاز کو میں نے درست راستے پر لگا دیا۔ وہ اپنے ابو کے ساتھ کام کرنے لگا اور اپنے گھر کا خیال رکھنے لگا مگر لوگ عناط مطلب لیتے تھے کہ یہ جو سب کچھ کرتی ہے اپنے لئے کرتی ہے۔

آج میری بڑی بہن کی شادی تھی۔ وہ دلہن بنی بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ ساجدہ باجی کی آنکھوں میں نئے سپنے تھے۔ ہر طرف خوشیوں کی دھوم تھی۔ والدین نے دعاؤں کی چھاؤں میں ان کو رخصت کیا۔ وہ سرخ آنچل میں پیا کے دیس چلی گئیں۔ اسد بھائی نے میری بہن کو چار برس خوش رکھا، لیکن جب ان کا آنگن بچوں کے وجود سے خالی رہا، تو ساس نے بیٹے سے کہا۔ بہو بانجھ ہے، اور شادی کرو۔ اس کو پوتے پوتیاں کھلانے کی خواہش تھی اور اسد بھائی ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔
باجی ساجدہ چند دنوں سے اپنے شوہر کو پریشان اور اکھڑا کھڑاد دیکھ رہی تھیں۔ باجی نے ایک دن قسم دے کر پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سجو ! اماں مجھ کو دوسری شادی کے لئے مجبور کر رہی ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں اجازت کی بات کر رہا ہوں۔ مجھے بخوشی اجازت دے دو۔ سجو دم بخودرہ گئیں۔ پیار کے وہ وعدے، عمر بھر وفادار رہنے کی قسمیں۔ کیا تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ ہاں، صرف اولاد کی خاطر ورنہ اچھا تو پھر ٹھیک ہے ، میں تمہاری خواہش رو نہیں کروں گی۔ سجو میں سوچ بھی نہیں سکتا ھا کہ تم اتنی جلد میری بات مان جاؤ گی۔ باجی سجو نے شوہر سے کہا۔ مگر میری ایک شرط ہے۔ تم ہمیشہ میرے قریب رہو گے ، مجھ سے دور نہیں جاؤ گے۔ اسد بھائی نے کہا۔ ہاں، میں تمہیں اتنا پیار دوں گا کہ جتنا پہلے کبھی نہیں دیا۔ سجو بولی۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ اگر تمہارے دل میں میرے لئے محبت ہوتی، تو تم مجھ سے دوسری شادی کا نہ کہتے۔ میں اپنے گھر کی خوشیاں اپنے ہاتھوں سے کسی کو نہیں دے سکتی۔ میرے اندر اتنا حوصلہ نہیں ہے۔ اس کے بعد میری بہن اپنے گھر واپس آگئی۔ ماں باپ، بہن بھائی بھی ایس صدمے سے نڈھال ہو گئے۔ نجو اسکول میں سروس کرنے لگیں۔ ابھی وہ جوان تھیں، خوبصورت تھیں۔ ان کے رشتے آنے لگے ، لیکن وہ نہیں مانتی تھیں ۔ ایک دن امتیاز ہمارے گھر آیا۔ باجی جانے کس حال میں بیٹھی تھیں کہ وہ ان کو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ پتا نہیں ، وہ ان کو پسند کرنے لگا تھا۔ میں نہیں جانتی۔ وہ مجھ سے بہت دور ہوتا جار بات کہ وہ ایک دن میں نے اپنی چھوٹی خالہ سے بات کی اور کہا۔ خالہ جان تم کہتی تھیں اگر تم کو کوئی لڑکا پسند ہو تو بتانا۔ مجھ کو امتیاز پسند ہے۔ خالہ نے کہا۔ اچھا! تم چپ رہنا، پہلے میں اپنے بیٹے سے بات کروں گی، پھر تم بات کرنا۔ حالہ نے اس سے پوچھا۔ اگر تم چاہو تو ہم تمہاری شادی نگینہ کے ساتھ کر دیتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھ کو نگینہ پسند نہیں ہے۔ خالہ کو بہت غصہ آیا اور کہا۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم تمہارے پیچھے لگیں گے، نہیں۔ تم سے زیادہ اچھے رشتے نگینہ کے آتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ پتا نہیں شاید تم اس کو پسند کرتے ہو، تو پوچھ لیا ہے، تبھی وہ کہنے لگا۔ خالہ انگین تو خود کہتی تھی کہ وہ مجھ کو پسند نہیں کرتی۔ جب میں نے یہ سنا تو پریشان ہو گئی کہ کب میں نے ایسا کہا تھا؟ خالہ سے میں نے کہا۔ خالہ ! میں نے بھی امتیاز سے ایسی بات نہیں کہی۔ آپ کہتی ہیں، تو میں قر آن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتی ہوں۔ تب خالہ خاموش ہو گئیں۔ بس یہاں سے زت اور موسم بدل گئے اور دل بھی بدل گئے۔ میں ہر وقت روتی رہتی تھی۔ ایک تو بہن کی پریشانی تھی میں بیمار ہو گئی اور بڑی خالہ سجو کا ہاتھ مانگنے آگئیں۔ آخر ماں کے آنسوؤں نے مجھ کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا اور ایک بار پھر سجود لہن بن گئیں۔ کسی کی دلہن ؟ امتیاز کی کچھ عرصہ بعد امتیاز بزنس کے سلسلے میں امریکہ چلا گیا اور میری بہن کو بھی ساتھ لے گیا۔ اس نے سجو کو اتنا پیار دیا کہ وہ ماضی کا ہر غم بھول گئیں۔ وہ امتیاز کے ہمراہ خوش و خرم تھیں۔ پانچ برس گزر گئے جب وہ وطن لوٹیں، تو ان کے تین بچے تھے۔

ایک دن بچوں کے لئے خریداری کرنے یہ دونوں بازار گئے ہوئے تھے کہ اچانک انہیں پیچھے سے کسی نے آواز دی۔ دیکھا تو اسد تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کاش! ہمارا بھی کوئی بچہ ہوتا۔ یہ آواز سن کر باجی سجو پیچھے ہٹ گئیں اور تیزی سے دکان سے باہر نکل کر گاڑی کی طرف بڑھیں، جہاں کار میں امتیاز ان کا انتظار کر رہا تھا۔ دراصل اسد کو دوسری بیوی سے بھی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ جس نے اولاد کی خاطر میری بہن کی خوشیاں اور گھر چھینا تھا۔ اس کے بعد امی نے کئی بار میری شادی کی بات کی، مگر میں کوئی جواب نہیں دیتی کیونکہ میں نے شادی کا سہانا سپنا دل سے نکال دیا ہے۔ بس ہر وقت یہی سوچتی ہوں کہ جانے کیوں لوگ دوسروں کو فریب میں رکھتے ہیں۔ جب کوئی اُن پر پختہ یقین کر لیتا ہے، تو پہلو بدل جاتے ہیں۔ کسی کا ذہن ویران ہو جائے تو دل بھی اجڑ جاتا ہے اور زندگی برباد ہو سکتی ہے۔ فریب دینے والا بھی کبھی سکون نہیں پاتا-