"یونیورس
25" کا تجربہ سائنس کی تاریخ کے سب سے خوفناک تجربات میں شمار ہوتا ہے، جس
میں سائنسدانوں نے چوہوں کی ایک کالونی کے رویے کے ذریعے انسانی معاشروں کو سمجھنے
کی کوشش کی۔
اس
تجربے کا تصور امریکی سائنسدان جان کیلہون نے پیش کیا، جنہوں نے ایک "مثالی
دنیا" تخلیق کی جہاں سینکڑوں چوہے آرام سے رہ سکیں اور پھل پھول سکیں۔ خاص
طور پر، کیلہون نے ایک نام نہاد "چوہوں کی جنت" بنائی، جو ایک خاص طور
پر ڈیزائن کی گئی جگہ تھی جہاں چوہوں کے لیے بڑی رہائشی جگہ، وافر خوراک اور پانی
موجود تھا۔
ابتدائی
طور پر انہوں نے چوہوں کے چار جوڑے رکھے، جو جلد ہی افزائش نسل شروع کر گئے اور ان
کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔ تاہم، 315 دن بعد ان کی افزائش میں نمایاں کمی آنا
شروع ہو گئی۔ جب چوہوں کی تعداد 600 تک پہنچ گئی تو ان کے درمیان ایک درجہ بندی
قائم ہو گئی اور پھر نام نہاد "خرابیاں" ظاہر ہونے لگیں۔
بڑے
اور طاقتور چوہے کمزور گروہوں پر حملہ کرنے لگے، جس کی وجہ سے بہت سے نر چوہے
نفسیاتی طور پر شکستہ ہو گئے۔ نتیجتاً مادہ چوہوں نے خود کو محفوظ رکھنا چھوڑ دیا
اور اپنے بچوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے لگیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مادہ
چوہوں میں تنہائی، بے حسی اور تولیدی رویے میں کمی دیکھنے میں آئی۔
شرح
پیدائش کم ہو گئی جبکہ کم عمر چوہوں کی شرح اموات بڑھ گئی۔ پھر نر چوہوں کی ایک
نئی قسم سامنے آئی جسے "خوبصورت چوہے" کہا گیا۔ انہوں نے مادہ چوہوں کے
ساتھ جنسی تعلقات بنانے یا اپنی جگہ کے لیے لڑنے سے انکار کر دیا۔ انہیں صرف کھانے
اور سونے سے مطلب تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ "خوبصورت نر" اور "تنہا
مادہ" چوہے اکثریت بن گئے۔
وقت
گزرنے کے ساتھ نوجوان چوہوں کی شرح اموات 100 فیصد تک پہنچ گئی اور افزائش نسل
مکمل طور پر رک گئی۔ خطرے سے دوچار چوہوں میں ہم جنس پرستی بھی دیکھی گئی، حالانکہ
خوراک وافر مقدار میں موجود تھی۔ کالونی کا آخری بچہ تجربہ شروع ہونے کے دو سال
بعد پیدا ہوا۔ 1973 تک یونیورس 25 میں موجود آخری چوہا بھی مر چکا تھا۔ جان کیلہون
نے یہی تجربہ مزید 25 بار دہرایا اور ہر بار نتیجہ یکساں رہا۔
اس
سائنسی تحقیق کو سماجی زوال کی تشریح کے لیے بطور ماڈل استعمال کیا گیا ہے، اور یہ
مطالعہ شہری سماجیات (Urban Sociology) کے میدان میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔
0 Comments