وہ ایک
عجیب سی لڑکی تھی… بہت سخت مزاج… گھر میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس کے سامنے
اونچی آواز میں بات کرے۔ گھر والوں نے اس کا نام سجّل رکھا تھا، لیکن اس کے سخت
رویے کی وجہ سے سب اسے "ہٹلر" کہتے تھے۔
ایک دن ساگر گھر آیا تو سجّل دروازے پر
کھڑی تھی۔ اس نے سخت لہجے میں کہا، "ہاں جناب! کہاں منہ اٹھا کر جا رہے
ہو؟" ساگر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا، "گھر ہی آ رہا ہوں، اور کہاں جاؤں
گا؟" سجّل کے ہاتھ میں جوتا تھا۔ اس نے پوچھا، "میرا فیس واش لائے
ہو؟" ساگر ہنسا اور بولا، "مجھے تم سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آتی
ہے۔" سجّل فوراً بولی، "شرم اور تم؟ اب میرا منہ نہ کھلواؤ… وہ تمہاری
گرل فرینڈ ہے؟" ساگر نرمی سے بولا، "تم ابھی چلو، میں فیس واش لے آؤں
گا… ذرا اپنی شکل دیکھو۔" سجّل غصے سے بولی، "فضول باتیں بند کرو!"
ساگر مسکرا دیا اور کچھ کہے بغیر مارکیٹ کی طرف چلا گیا۔
ساگر اور سجّل کزن تھے اور ایک ہی مشترکہ
خاندان میں رہتے تھے۔ سجّل ساگر کے چچا کی بیٹی تھی، لیکن اس کے والد فوت ہو چکے
تھے۔ اس نے بی اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی، جبکہ ساگر ایم فل کر رہا تھا۔ سجّل
بہت پیاری تھی، مگر اس کا مزاج انتہائی سخت تھا۔
ساگر جب گھر واپس آیا تو فیس واش ہاتھ میں
لے کر بولا، "خالہ جان! ہٹلر کہاں ہے؟" خالہ نرمی سے بولیں، "جب وہ
غصے میں ہوتی ہے تو مجھے بھی ڈر لگتا ہے۔" ساگر ہنستے ہوئے بولا، "کبھی
کبھی مجھے لگتا ہے… ہٹلر ہماری نہیں ہے، ہسپتال میں شاید بچے بدل گئے تھے!"
اس کی ماں نے اسے ڈانٹا، "فضول باتیں بند کرو!"
ماں کچن میں پکوڑے بنا رہی تھیں، خاص طور
پر سجّل کے لیے کڑی پکوڑا تیار ہو رہی تھی۔ ساگر نے ابھی ایک پکوڑا اٹھایا ہی تھا
کہ اچانک سجّل ہاتھ میں چھڑی لیے دوڑتی ہوئی آئی۔ ساگر ڈر کر بولا، "امی! میں
نے کچھ کیا بھی نہیں، یہ ہٹلر چھڑی کیوں لے کر آ رہی ہے؟" خالہ مسکرائیں،
"دو گھنٹے سے چوہے کے پیچھے بھاگ رہی ہے!" ساگر حیران ہوا، "چوہا
مار رہی ہے؟"
سجّل نے ساگر کو دھکا دیا اور بولی،
"یہاں سے ہٹو! میرے سامنے مت آؤ!" آخرکار اس نے چوہا مار دیا اور غصے
میں بولی، "چوہے کے بچوں! اب سب کو بتا دینا… سجّل سے پنگا لینا اچھا نہیں
ہوتا!" ساگر یہ سب دیکھ رہا تھا۔ پھر اچانک سجّل نے جوتا اتارا اور چوہے کو
دم سے پکڑ لیا اور ساگر کے پیچھے دوڑنے لگی۔ ساگر چیخنے لگا، "میری ماں کی
قسم! تمہاری ماں کی قسم! پوری دنیا کی ماؤں کی قسم… اسے مجھ پر مت پھینکنا!"
سجّل رک گئی اور بولی، "پہلے وعدہ کرو!" ساگر ڈرتے ہوئے بولا، "ہاں
ہاں… وعدہ!"
سجّل مسکرائی اور کہا، "آج تم مجھے
آئس کریم کھلانے لے جاؤ گے!" ساگر گھبرا کر بولا، "ہاں لے جاؤں گا… بس
چوہا مجھ پر مت پھینکو!" سجّل نے چوہا باہر پھینک دیا۔ ساگر نے سکون کا سانس
لیا اور بولا، "مجھے کچھ کہنا ہے…" سجّل پیار سے بولی، "ہاں…
کہو!" ساگر ہچکچاتے ہوئے بولا، "میرا دل چاہتا ہے کہ عید پر تمہیں پارک
لے جاؤں۔" پھر وہ بولا، "لیکن آج رہنے دو… تمہاری پسند کی کڑی پکوڑا بنی
ہے… عید پر لے جاؤں گا۔"
یہ سن کر سجّل نے اس کا کالر پکڑ لیا اور
بولی، "ساگر! میں تمہارے دانت توڑ دوں گی!" ساگر فوراً بولا،
"خالہ! ہٹلر کو سمجھائیں!" خالہ مسکرائیں، "اب کیا ہوا؟" ساگر
بولا، "یہ زبردستی سب کام کرواتی ہے… میں اس سے بڑا ہوں!" سجّل نے فوراً
جواب دیا، "ہاں ہاں… بہت بڑے ہو!" ساگر بولا، "عمر میں نہیں… قد
میں دیکھو کتنا بڑا ہوں!" آخرکار سجّل نے کہا، "چلو ابو سے پوچھتے
ہیں!" موسم خراب تھا مگر سجّل کو آئس کریم کھانی تھی۔ آخر ابو نے اجازت دے
دی۔
ساگر بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا،
"چلو اب تیار ہو جاؤ… کچھ میک اپ کر لو!" سجّل غصے سے بولی، "مجھے
میک اپ پسند نہیں… جیسے اللہ نے بنایا ہے ویسے ہی ٹھیک ہوں!" دونوں آئس کریم
والے کے پاس پہنچے، مگر سجّل کا دل پیزا کھانے کا تھا۔ ساگر بولا، "آئس کریم
کھانی ہے تو کہو… ورنہ میں جا رہا ہوں!" آخر اسے سجّل کے آگے ہار ماننی پڑی
اور اس نے پیزا آرڈر کر دیا۔
اسی وقت بارش شروع ہو گئی۔ موسم بہت
خوبصورت تھا۔ سجّل ہوٹل کے دروازے پر کھڑی بارش کے قطرے پکڑ رہی تھی کہ ایک لڑکا
اسے گھورنے لگا، آنکھ ماری اور اشارے کیے۔ سجّل نے برداشت کیا مگر جب لڑکا قریب
آیا اور اسے اپنا نمبر دینے لگا تو سجّل نے اس کا کالر پکڑ لیا اور بولی،
"تمہاری اتنی ہمت؟ مجھے نمبر دو گے؟ اپنی شکل دیکھی ہے؟ بندر کہیں کے!"
لڑکا بھاگنے لگا مگر سجّل نے اسے تھپڑ مار دیا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ ساگر باہر آیا اور
مشکل سے لڑکے کو بچایا۔ وہ لڑکا وہاں سے ایسے بھاگا جیسے جان بچا کر بھاگ رہا ہو۔
سب کہنے لگے، "واہ! کتنی بہادر لڑکی ہے!" مگر ساگر نے دل میں کہا،
"یہ لڑکی نہیں… ہٹلر ہے!"
پیزا آیا اور دونوں نے کھایا۔ آخر میں ساگر
نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بولا، "اوہ! میں اپنا بٹوہ بھول گیا!" سجّل
بولی، "میں پیسے نہیں دوں گی!" ساگر نے ہاتھ جوڑ کر کہا، "آج تم دے
دو… گھر جا کر واپس کر دوں گا!" بارش میں دونوں گھر واپس آئے، بال گیلے تھے۔
آج پہلی بار ساگر کا دل سجّل کے لیے تیز دھڑک رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ سجّل کے رشتے کی بات چلی
اور گھر والوں نے سوچا کہ ساگر سے شادی کر دیں، مگر ساگر نے انکار کر دیا،
"میں اس ہٹلر سے شادی؟ کبھی نہیں! کوئی اور لڑکا ڈھونڈو!" یہ سن کر سجّل
اداس ہو گئی۔
ایک دن ساگر باغ میں چائے پی رہا تھا کہ
سجّل آئی۔ آج وہ تیار ہو کر آئی تھی، میک اپ کیا ہوا تھا اور بہت پیاری لگ رہی
تھی۔ ساگر حیران رہ گیا اور بولا، "ماشاءاللہ… آج تو بہت خوبصورت لگ رہی
ہو!" مگر سجّل خاموش رہی۔
کچھ دن بعد ایک رشتہ آیا، لڑکا افسر تھا
اور بات پکی ہو گئی۔ لڑکے والوں نے بہت جہیز مانگا، سب خوش تھے مگر سجّل خاموش
تھی۔ شادی سے دو دن پہلے وہ اپنے ابو کو یاد کر کے بہت روئی۔ ساگر نے اس کا ہاتھ
پکڑ کر کہا، "ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔"
آخر شادی کا دن آ گیا۔ سجّل دلہن بنی اور
بہت خوبصورت لگ رہی تھی، مگر ساگر کا دل بے چین ہو رہا تھا۔ لڑکے کی ماں نے کار
جہیز میں مانگ لی۔ سجّل خاموش کھڑی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مولوی صاحب
نے پوچھا، "کیا تمہیں یہ نکاح قبول ہے؟" سجّل نے پہلی اور دوسری بار ہاں
کہہ دی۔ تیسری بار کہنے والی تھی کہ اچانک ساگر کو پیغام آیا، "سجّل تم سے
بہت محبت کرتی ہے… لڑکا اچھا نہیں… اسے بچا لو!"
اسی لمحے ساگر کھڑا ہوا اور بلند آواز میں
بولا، "ارے ہٹلر! کیا تم ساگر کی بیوی بنو گی؟" سب حیران رہ گئے۔ ابو نے
کہا، "آج پہلی بار تم نے اچھا کام کیا!" ساگر نے سب کے سامنے کہا،
"میں اللہ کو گواہ بنا کر سجّل کو اپنی بیوی قبول کرتا ہوں!" سجّل رونے
لگی۔ لڑکے کی ماں نے شور مچایا مگر سجّل نے اسے دھکا دے کر کہا، "دور ہٹو!
تمہارا بیٹا بندر لگتا ہے!"
آخرکار سجّل ساگر کی بیوی بن گئی۔ ساگر نے
صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کیا اور سجّل کی زندگی بچا لی۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ
تھاما اور اپنی زندگی کو جنت بنا لیا۔
0 Comments