گھر سے بھاگنے والے بچے بچیاں - CHILDREN RUNNING AWAY FROM HOME
کراچی سے چند کم
عمر لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں تو میڈیا میں ہلچل مچ گئی۔ مختلف ٹی
وی چینلز اس معاملے کو بار بار دکھانے لگے، اور عوام بھی شدید تشویش میں مبتلا ہو
گئی۔ لاپتہ ہونے والی لڑکیوں کے والدین کے مطابق ان کی عمریں تقریباً تیرہ یا چودہ
سال تھیں۔
ٹی
وی چینلز نے کئی دن تک اس معاملے کو سرِ فہرست رکھا۔ کبھی متاثرہ والدین کے
انٹرویوز دکھائے گئے اور کبھی پولیس اور حکومت پر تنقید کی گئی کہ وہ ان لڑکیوں کو
تلاش کرنے میں ناکام کیوں ہیں۔ پھر اچانک کہانی کا رخ بدل گیا اور ان لڑکیوں کی
ویڈیوز سامنے آ گئیں جن میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر شادی
کر چکی ہیں۔
ویڈیوز
میں لڑکیاں واقعی کم عمر محسوس ہوتی تھیں اور جن لڑکوں سے انہوں نے شادی کی تھی،
وہ بھی زیادہ بڑے نہیں لگتے تھے۔ لڑکیوں نے اپنے والدین پر الزام لگایا کہ وہ ان
کی مرضی کے بغیر شادی کرنا چاہتے تھے، جبکہ انہوں نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے
اور انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا۔
ان
لڑکیوں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی ہو چکی ہیں۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے
مطابق یہ شادیاں انٹرنیٹ دوستیوں کے نتیجے میں ہوئیں، جہاں لڑکیوں نے والدین سے
چھپ کر تعلقات بنائے اور پھر گھر سے بھاگ کر شادی کر لی۔
اب
حقیقت کیا ہے اور ان کی اصل عمر کتنی ہے، اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ مگر کاش ہمارے
ٹی وی چینلز اس بات پر بھی غور کرتے کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں۔ وہ بچے جنہیں
ابھی پڑھنا اور کھیلنا چاہیے، آخر کیوں گھر سے بھاگ کر شادی جیسے بڑے فیصلے کر
لیتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر میڈیا کو توجہ دینی چاہیے، مگر اگر وہ ایسا کریں تو
کئی چینلز خود ہی کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے۔
جس
قسم کی بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کو ہمارے چینلز فروغ دے رہے ہیں، جس طرح کے
بے ہودہ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں، اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ اب یہ مسئلہ صرف ٹی
وی تک محدود نہیں رہا بلکہ موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے مزید پھیل چکا ہے۔
بہت
سے والدین بھی مغربی کلچر سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کی
دوستیوں کو برا نہیں سمجھتے۔ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل دے دیا جاتا ہے، جس
سے وہ نامناسب مواد دیکھ سکتے ہیں اور آن لائن دوستیاں بھی کر سکتے ہیں۔ یہی چیزیں
انہیں فلمی انداز میں عشق کرنے اور گھر سے بھاگ کر شادی کرنے پر اکساتی ہیں۔
ایک
ایسی ہی لڑکی کی والدہ نے کہا تھا کہ ممکن ہے اس کی بیٹی کی نازیبا ویڈیو بنا کر
اسے بلیک میل کیا گیا ہو۔ بدقسمتی سے ایسی ویڈیوز بنانا اور شیئر کرنا عام ہو چکا
ہے اور ایف آئی اے کو اس طرح کی شکایات مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔
نجانے
میڈیا کی غیر ذمہ داری اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال نے کتنی لڑکیوں کی زندگیاں
برباد کر دی ہیں اور کتنے خاندان اجڑ گئے ہیں۔
افسوس
کی بات یہ ہے کہ ایک طرف میڈیا تفریح کے نام پر بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے اور
والدین اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے، تو دوسری طرف حکومت بھی خاموش تماشائی
بنی ہوئی ہے۔ ایسے واقعات کو ہمیں جھنجھوڑنا چاہیے، مگر جب ریاست، میڈیا اور
والدین تینوں اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں تو بہتری کی امید کم اور تباہی کا
اندیشہ زیادہ ہو جاتا ہے۔
اللہ
کے لیے اپنے خاندان، اپنی نسلوں اور اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں۔ جو کچھ غلط
ہو رہا ہے، اس پر غور کریں اور جہاں تک ممکن ہو برائی کو روکنے کی کوشش کریں۔
— انصار عباسی

0 Comments