Ek Behan Ka Intiqam – Ek Dardnaak aur Sabak Amoz Urdu Kahani


یہ ان دنوں کی بات ہے، جب کراچی اتنا بڑا شہر نہیں تھا۔ ان دنوں لسبیلہ کا علاقہ ویران ہوا کرتا تھا اور یہاں کے مقامی باشندے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ وہیں اعظم کا کھیت بھی تھا۔ اس کی ایک بیٹی شاہ بانو تھی۔ یہ بچی ماں کی موت کے باعث ممتا کے پیار سے محروم ہو گئی تھی۔ اب باپ ہی بچوں کے لیے ماں بھی تھا۔ اعظم نے دوسری شادی نہیں کی بلکہ گھر پر ایک ایسی وفادار نوکرانی کا انتظام کر لیا، جو بچوں کی دیکھ بھال ماں کی طرح کرتی تھی۔ اسی لیے اس گھر میں رحمت بی بی کا مقام ایک نوکرانی جیسا نہیں تھا، بلکہ اعظم اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

رحمت بی بی گوری چٹی اور پرکشش عورت تھی، اس کے نین نقش تیکھے اور خوبصورت تھے۔ لیکن اس کا مرحوم شوہر گہری سیاہ رنگت کا، گھنگریالے بالوں والا، مضبوط، دراز قد، چوڑے شانوں والا ایک شاندار نوجوان تھا۔ ان کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام جمال تھا۔ جمال کا قد و قامت باپ پر اور شکل و صورت ماں پر گئی تھی۔ وہ دیکھنے میں نہایت پرکشش تھا، البتہ اس کے بال اپنے باپ کی طرح لچھے دار اور گھنگریالے تھے، جو اس کی سرخ و سفید رنگت پر خوب جچتے تھے۔

جمال کا باپ اس کے بچپن میں ہی وفات پا گیا تھا، یوں وہ اپنی ماں کے ساتھ اعظم خان کے گھر میں، اس کے بچوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے جوان ہو گیا۔ بچپن میں تو اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا کہ شاہ بانو اور اس میں کوئی طبقاتی فرق ہے، سو ہمیشہ اس کے ساتھ برابری کا سلوک کرتا۔ لیکن جب وہ باشعور ہوا تو یہ خیال اسے پریشان کرنے لگا کہ شاہ بانو اس کے مالک کی بیٹی ہے اور وہ خود ایک نوکرانی کا بیٹا۔

اس گھر میں سب اس کی ماں پر حکم چلاتے تھے، حالانکہ وہ ماں تھی۔ اس رویے کی کوئی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ جب وہ جوان ہوا تو ایک دن ماں کو اپنے دل کی بات بتا دی کہ وہ شاہ بانو سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر رحمت بی بی نے نرمی سے سمجھایا کہ یہ ناممکن ہے، لیکن جمال بضد رہا کہ وہ شاہ بانو کو ہی اپنی دلہن بنائے گا۔

بیٹا اب کڑیل جوان، مگر نادان تھا، تاہم ماں تو سیانی تھی۔ اس نے جمال کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن جب وہ نہ مانا تو ایک دن غصے میں آ کر جوتا اٹھا لیا۔ اس پر جمال نے بھی قسم کھائی کہ وہ شاہ بانو کو بیوی بنا کر رہے گا، اور طیش میں آ کر گھر سے نکل گیا۔

وہ اپنے ایک دوست،  کے محلے میں رہنے والے شاندار خان سے جا ملا، جو ٹیکسی چلاتا تھا۔ جمال نے اسے اپنا مسئلہ بتایا تو شاندار نے اس کی ڈھارس بندھائی: گھبراؤ نہیں، جوان ہو، جوان بنو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اگر لڑکی کا باپ نہیں مانتا تو ہم شاہ بانو کو اُٹھا لیتے ہیں!

کچھ دن وہ شاندار کے پاس رہا، اور سوچ بچار کے بعد دونوں نے مل کر لڑکی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ ایک روز جب شاہ بانو اکیلی اپنے باپ کے کھیت سے گزر رہی تھی، تو جمال اور شاندار خان نے اسے اغوا کر لیا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ وہ دونوں اسے ٹھٹھہ لے گئے اور وہاں ایک مولوی کو مجبور کیا کہ وہ شاہ بانو کا نکاح جمال سے پڑھا دے۔

ان دنوں شاہ بانو کی عمر محض تیرہ، چودہ سال تھی۔ مولوی صاحب نے جب لڑکی کو روتے اور احتجاج کرتے دیکھا تو نکاح پڑھانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر جمال کو بہت غصہ آیا اور اس نے خنجر نکال کر مولوی کے گلے پر رکھ دیا۔ اپنی جان تو سب کو پیاری ہوتی ہے، آخرکار مولوی صاحب کو نکاح کے دو بول پڑھنے پڑے۔

جمال مطمئن ہو گیا۔ اب وہ سمجھتا تھا کہ شاہ بانو اس کی بیوی بن چکی ہے، اس کی منکوحہ ہے۔ اب اسے کسی بات کا ڈر نہیں تھا۔ چند دن ایک دوست کے پاس ٹھہرنے کے بعد وہ کراچی واپس آ گیا اور سیدھا اعظم کے پاس جا پہنچا، جو پہلے ہی بیٹی کی گمشدگی سے پریشان تھا۔ اسے جمال پر شک تھا، کیونکہ وہ بھی لاپتہ تھا۔

جمال کو دیکھتے ہی اعظم کا خون کھول اٹھا۔ اس سے پہلے کہ وہ جمال پر جھپٹتا، شاندار نے اسے پہلے حملہ کرنے کی ترکیب بتا دی تھی۔ چنانچہ اعظم کے تیور دیکھ کر جمال نے فوراً جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور نیفے سے خنجر نکال کر اس پر تان لیا، اور کہا:مجھے اپنا داماد مان لو، کیونکہ میں تمہاری بیٹی سے نکاح کر چکا ہوں۔ نکاح نامہ میری جیب میں موجود ہے۔

اعظم، نوکرانی کے بیٹے کی یہ ہمت دیکھ کر لرز گیا۔ جمال ویسے بھی ایک مضبوط بازوؤں والا، لمبا تگڑا نوجوان تھا، جس کا جسمانی مقابلہ وہ ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔ یوں خنجر کی نوک کے آگے، اسے جمال کو اپنا داماد تسلیم کرنا ہی پڑا۔ اس نے کہا:میں نے تمہارا نکاح مان لیا ہے، اب میری بیٹی کو واپس گھر لے آؤ۔

جمال شاہ بانو کو لے کر گھر آ گیا اور ٹھاٹھ سے یہاں رہنے لگا۔ اعظم نے سوچا کہ عزت تو گئی، اب اس سرپھرے جوان سے بگاڑنے کا کیا فائدہ، جب کہ شاہ بانو بھی اس کی بیوی بننے کے بعد اب کسی صورت اس کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھی۔ بیٹی کے آنسوؤں نے اسے مجبور کر دیا۔ اس نے زبردستی کے داماد کو قبول کر لیا اور جائیداد میں سے حصہ بھی دے دیا تاکہ معاملہ شانت رہے اور بدنامی کا راگ باہر کے لوگوں تک نہ پہنچے۔ مگر دل سے وہ اسے کبھی قبول نہ کر سکا۔

جمال اسی کے سامنے، اسی کے گھر میں پلا بڑھا تھا۔ اس سے قبل اس نے کبھی کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور اس کی ماں، رحمت بی بی، نے اعظم کے بچوں کی پرورش ماں کی طرح کی تھی۔ یہ احسان بھی کچھ کم نہ تھا، اس لیے اسے جمال کو معاف کرنا پڑا۔

جب تک جمال گھر میں رہا، نیک اطوار رہا، مگر جیسے ہی ماں سے ناراض ہو کر الگ ہوا، بری صحبت میں جا پڑا اور دو غلط قسم کے نوجوانوں کی رفاقت اختیار کر لی۔ اس نے منشیات فروشی کا دھندہ شروع کر دیا۔ اس کی دیکھا دیکھی شاہ بانو کا چھوٹا سوتیلا بھائی، مومی، بھی بگڑنے لگا اور اوباش لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا۔ ماں بچپن میں وفات پا چکی تھی، روکنے والا کوئی نہ تھا۔ جوان لڑکے کب کسی کے قابو میں آتے ہیں؟

رحمت بی بی عمر بھر اعظم کے گھر کی چہار دیواری میں رہ کر بچوں کی پرورش کرتی رہی، جب کہ مومی آوارہ اور عادی چور بن چکا تھا۔ اعظم کو جب اس کے چوریوں کا علم ہوا تو اسے بہت سمجھایا، مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر سب نے مایوس ہو کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

اپنے گھر سے نکلنے کے بعد وہ شاہ بانو کے گھر رہنے لگا۔ کئی مرتبہ پکڑا گیا، پولیس کی مار پیٹ سہنی پڑی، جیل گیا، مگر چوری اس کی فطرت بن چکی تھی۔ چوری کے بغیر اسے سکون نہ آتا۔ مار کھا کھا کر وہ اس قدر سخت جان ہو چکا تھا کہ پولیس بھی اس سے کچھ نہ اگلواتی تھی۔

ایک بار پولیس نے اسے گرفتار کیا اور تین دن تک مسلسل تشدد کیا، پھر وہ لاپتا ہو گیا۔ کئی دن بعد شہر کے باہر ایک جنگل سے اس کی جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی، تو اخبارات میں تہلکہ مچ گیا۔ شہ سرخیوں میں پولیس افسران پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مومی کو تشدد کر کے مارا اور ثبوت مٹانے کے لیے لاش کو جلا دیا۔

اخبارات نے لکھا کہ پولیس والوں نے اس کی لاش کو اس حد تک جلا دیا کہ پہچان ممکن نہ رہی، تاکہ تشدد کے نشانات ظاہر نہ ہو سکیں۔ شاہ بانو کو جب اپنے بھائی کی ہلاکت کی خبر ملی تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اسے اپنے بھائی سے بہت پیار تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

شاہ بانو کا پہلے بھی پولیس سے سابقہ پڑ چکا تھا۔ جب پولیس جمال کو گرفتار کرنے آتی، تو وہ دروازے پر کھڑی ہو جاتی اور پولیس کو گالیاں دے کر واپس بھیج دیتی۔ پولیس بھی اس سے الجھنے کی جرات نہ کرتی۔لیکن آج وہی عورت بھائی کی موت پر بے بس ہو کر زار و قطار رو رہی تھی، اور پولیس والے طنزیہ انداز میں مسکرا رہے تھے کہ یہی وہ عورت ہے جو ہمیں دروازے سے گالیاں دیا کرتی تھی، آج کس قدر لاچار ہو چکی ہے۔

بھائی کی موت نے شاہ بانو کو اندر سے توڑ دیا۔ وہ اسپتال کے احاطے میں پاگلوں کی طرح چیختی پھرتی رہی کہ “میرے بھائی کی جلی ہوئی لاش مجھے دے دو”، مگر اسے کامیابی نہ ملی۔ قانونی کاغذات میں لاش کی حتمی شناخت ممکن نہ ہو سکی تھی، اس لیے کسی کو وارث تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا۔

آخر وہ روتی پیٹتی ایک اعلیٰ افسر کے پاس پہنچی، جس کی مدد سے وہ بھائی کی جلی ہوئی لاش حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ لاش کو دیکھ کر اس کے دل میں انتقام کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک بھائی کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لے گی، سکون سے نہیں بیٹھے گی۔اگرچہ اس کا شوہر شہر کا بدنام زمانہ منشیات فروش تھا، مگر شاہ بانو خود نیک چلن، باعزت اور پارسا عورت سمجھی جاتی تھی۔ پولیس اس سے خفا ضرور رہتی، مگر اس کی پارسائی کی معترف بھی تھی۔

اب وہ بھائی کے قتل کی فریاد لے کر دیوانہ وار در در پھرنے لگی۔ کئی بڑے پولیس افسران کے پاس گئی، مگر سب بے بس تھے۔ وہ اسے تسلی دے کر رخصت کر دیتے۔ وہ درخواست ہاتھ میں لیے فریاد کرتی رہی، اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے، چہرہ اجڑ گیا۔وہ سوچتی، کاش اس کا باپ، اعظم، زندہ ہوتا، تو وہ یوں لاوارث نہ ہوتی۔
کہتے ہیں، کسی مظلوم کی آہ رائیگاں نہیں جاتی۔ شاہ بانو کی مسلسل فریاد رنگ لائی اور ایک دیانت دار پولیس افسر کو واقعے کی تحقیقات پر مامور کر دیا گیا۔

تحقیقات شروع ہوئیں، تو کئی بارسوخ پولیس افسران بھی تفتیش کی زد میں آ گئے۔ کچھ گرفتار ہوئے، کچھ نے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی۔ مقدمہ چلا، مگر ثبوت نہ مل سکے۔ کوئی ایسی شہادت پیش نہ کی جا سکی جس سے مجرموں کو سزا دی جا سکتی۔آخرکار ملزمان باعزت بری ہو گئے، اور بے بس شاہ بانو، صرف ایک عدالتی فیصلے کی مار بن کر رہ گئی۔

شاہ بانو ایک ان پڑھ اور سادہ عورت تھی، لیکن اس ناکامی نے اس کے ذہن میں جیسے ہزاروں چراغ روشن کر دیے۔ اگرچہ مقدمہ ختم ہو چکا تھا، مگر اس بے بس عورت کے سامنے اپنے بھائی کی ہلاکت ایک ایسا کھلا چیلنج تھی، جس کا مقصد قاتل کو بے نقاب کرنا تھا۔ وہ قانون کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے دوسرے راستوں پر غور کرنے لگی۔ اب وہ جنون کی کیفیت میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اسے نہ گھر کا ہوش تھا، نہ دنیا کا، حتیٰ کہ اپنے بچوں کا بھی خیال نہ رہا۔

وہ سارا دن گلیوں، بازاروں، جیلوں اور ہر اُس جگہ مارے مارے پھرتی، جہاں ذرا سی بھی امید ہوتی کہ شاید بھائی کے قاتلوں کی کوئی خبر مل جائے۔ آخرکار، پولیس کے ایک نچلے درجے کے سپاہی کو اس پر ترس آ گیا، اور اس نے اسے بتا دیا کہ مومی کا قتل ایک اعلیٰ پولیس افسر کے ہاتھوں ہوا ہے۔ یہ جان کر شاہ بانو نے اُس افسر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں اور بالآخر تحقیقات کے سلسلے میں بازارِ حسن جا پہنچی، جہاں وہ پولیس افسر گانا سننے اور رقص دیکھنے آتا تھا۔

شاہ بانو نے زندگی میں پہلی بار بازارِ حسن میں قدم رکھا۔ اس عمارت کا نام بلبل ہزار داستان تھا۔ وہ ازخود رقاصہ عروسہ کے فلیٹ پر جا پہنچی۔ جب رقاصہ نے اس کے آنے کا مقصد پوچھا تو شاہ بانو اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اس کے پاؤں پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ اس قدر روئی جیسے پوری زندگی کا غم اکٹھا ہو گیا ہو۔ عورت، عورت کے آنسو سمجھ سکتی ہے۔ شاہ بانو کی دکھ بھری، اثر انگیز باتوں نے عروسہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس بے بس عورت کی مدد کرے اور شاید اپنے گناہوں کا کچھ ازالہ ہو جائے۔ اس نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، اور دونوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا، جس پر اگلے دن ہی عمل شروع ہو گیا۔

اس شام، محفل میں پولیس افسر کی آمد سے کچھ پہلے، شاہ بانو عروسہ کے بیڈ روم میں چھپی ہوئی تھی۔ عروسہ نے ایک کونے میں بجلی کے سوئچ بورڈ کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر سیٹ کر دیا اور شاہ بانو کو کپڑوں کے ڈھیر میں چھپا دیا۔ اس نے ہدایت دی کہ جیسے ہی دروازے پر قدموں کی آہٹ ہو، وہ فوراً پلنگ کے نیچے جا کر کپڑوں کا ڈھیر اپنے اوپر ڈال لے۔

محفل شروع ہوئی۔ رقص و سرود کا سلسلہ چلا۔ آج عروسہ نے خاص طور پر دلکش لباس پہنا ہوا تھا، اس کی اداؤں نے سب کو مدہوش کر دیا۔ محفل کے اختتام پر سب مہمان ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے، لیکن پولیس افسر، شہاب، حسبِ معمول وہیں بیٹھا رہا۔ وہ ہمیشہ محفل کے بعد عروسہ کے کمرے میں جا کر آرام کیا کرتا تھا۔عروسہ نے اسے اپنی مخصوص اداؤں سے خلوت میں بلا لیا۔ وہ اس کے لیے حسین ہاتھوں سے جام تیار کرتی رہی اور شہاب ہنستے ہنستے پیتا رہا۔ تھوڑی دیر میں وہ اتنا نشے میں چور ہو چکا تھا کہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گیا۔ اب اس کے سامنے صرف عروسہ تھی، وہ محبوبہ، جس پر وہ ہزار جان سے فدا تھا۔ادھر پلنگ کے نیچے کپڑوں میں دبی شاہ بانو کا برا حال تھا۔ گرمی اور گھٹن سے سانس رکنے لگتا، مگر یہ اذیت اسے برداشت کرنی ہی تھی۔ کچھ دیر بعد، عروسہ نے گفتگو کا رخ بدلا اور باتوں باتوں میں وہ موضوع چھیڑ دیا، جس کی خاطر یہ سارا ڈراما رچایا گیا تھا۔

عروسہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ مرد سمجھتے ہیں کہ وہ عقل مند ہوتے ہیں، مگر ہوتے نہیں۔ عورت ان سے زیادہ ہوشیار اور بیدار مغز ہوتی ہے۔ مرد تو اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ کسی عورت کے حسن کا اسیر ہو جائیں تو ایک چڑیا بھی نہیں مار سکتے، کسی مجرم کو کیا ماریں گے۔یہ سن کر نشے میں دھت شہاب بھڑک اٹھا۔ اس نے غرور سے کہا کہ تم مرد کو کمزور سمجھتی ہو؟ پولیس والا تو پتھر دل ہوتا ہے۔ مجھے ہی دیکھ لو، کس طرح میں نے مومی کو مارا، لاش کو جلا دیا، اور کوئی میرا کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔ بڑے بڑے افسر بھی مجھے نہیں پکڑ سکے۔عروسہ نے ناز سے مسکرا کر کہا کہ مومی کون ہے؟ اور تم نے اسے کیسے مارا؟ ذرا ہم بھی تو سنیں تمہاری بہادری اور ذہانت کی داستان۔

ان الفاظ سے شہاب کا سینہ فخر سے تن گیا۔ اس نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ وہ بتاتا ہے کیسے مارا اس نے مومی کو۔ وہ ایک چور تھا، پکڑا گیا، مگر چوری تسلیم نہیں کر رہا تھا۔ تب اس نے اس کی زبردست پٹائی کی، لیکن جب اس کے منہ سے کچھ نہ نکلا، تو اسے الٹا لٹکا کر چرخی بنا کر گھما دیا۔ پھر اس کے پاؤں کے تلوے گرم کیے۔ اس کے بعد اسے دوڑایا، مگر وہ بھی عجیب سخت جان نکلا۔ اس حال میں بھی گالیاں بکتا رہا۔

اس نے کہا کہ اتنی ہمت تھی اس مردود کی کہ آخرکار اس نے اپنے دو ماتحتوں سے کہا، یہ چوری کا اقرار نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے ساتھیوں کے نام بتاتا ہے، تم دونوں بوٹوں سمیت اس کے جسم پر اتنا اچھلو کہ اس کی ہڈیاں پسلیاں ایک ہو جائیں۔ وہ ہاتھ پاؤں سے بندھا ہوا تھا اور سپاہی اس کے جسم پر کود رہے تھے۔ آخر وہ تڑپتے تڑپتے بے ہوش ہو گیا اور صبح تک مر گیا۔

جب پتا چلا کہ وہ تشدد سے مر گیا ہے، تو تھانے میں کھلبلی مچ گئی کہ اب کیا کیا جائے؟ لاش کہاں چھپائی جائے؟ اعلیٰ افسروں کو کیا بتایا جائے؟ اخبار والوں کا سامنا کیسے کیا جائے؟ مقتول کے ورثا کو کیسے مطمئن کیا جائے؟

آخرکار اس نے ایک حل نکالا۔ سب سے کہا کہ یہ خبر پھیلا دو کہ مومی نے ماچس اور سگریٹ مانگا اور پھر خود اپنے کپڑوں کو آگ لگا دی۔ یہی کہانی گھڑ لی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ آتش زدگی ہی لکھی گئی۔ اور وہ بہن، جو ہمیں ہمیشہ آنکھیں دکھایا کرتی تھی، آج گلیوں میں پاگلوں کی طرح روتی پھر رہی ہے۔

شہاب کی وہ رنگین رات شراب کی مدہوشی میں بیت گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ عروسہ کی خلوت گاہ سے چلا گیا۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ شاہ بانو اسی رات اس کی آواز کا ریکارڈ حاصل کر چکی ہے۔ یہ اُسے تب معلوم ہوا جب ریکارڈ عدالت میں پیش ہوا اور پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا۔

شاہ بانو نہ صرف ان پڑھ تھی بلکہ غریب بھی، مگر کسی نے بھی اس پر ترس نہ کھایا۔ اگر ترس کھایا تو ایک رقاصہ نے، جسے دنیا عام طور پر حقارت سے دیکھتی تھی۔ آج وہی رقاصہ شاہ بانو کے ساتھ کھڑی تھی۔ شاہ بانو عدالت میں اپنا مقدمہ خود لڑ رہی تھی کیونکہ اس کے میکے والے اس کے ساتھ نہیں تھے۔ اس کا باپ کچھ عرصہ قبل فوت ہو چکا تھا۔ اگر زندہ ہوتا تو بیٹی کا ساتھ ضرور دیتا، کیونکہ مومی چاہے برے راستے پر نکل گیا تھا، مگر آخرکار وہ اسی کا بیٹا تھا۔مومی کی موت کا غم شاہ بانو کے ساتھ ساتھ رحمت بی بی کو بھی تھا، جس نے اسے ماں بن کر پالا تھا۔ پولیس انسپکٹر کا اقرار عدالت سن چکی تھی، اور اب وہ اپنے جرم سے مکر نہیں سکتا تھا۔

اس کیس کے منظرِ عام پر آنے سے کرائم برانچ میں زلزلہ آ گیا۔ تحقیقات میں ہر الزام سچ ثابت ہو چکا تھا۔ ملزمان بری طرح پھنستے جا رہے تھے۔ انہوں نے شاہ بانو سے التجا کی کہ وہ ان کے خلاف مقدمہ واپس لے لے، بدلے میں وہ بہت بڑی رقم دینے کو تیار ہیں۔ مگر شاہ بانو نے صاف انکار کر دیا۔ وہ بولی کہ بے شک مجھے بھی میرے بھائی کی طرح جنگل میں دوڑا کر جلا دو، مگر میں اپنے بھائی کا خون معاف نہیں کروں گی۔ یہ دولت تم اپنے پاس ہی رکھو۔

جب یہ حربہ ناکام ہوا، تو آخری کوشش کے طور پر ملزمان کی بیویاں اور بچے شاہ بانو کے گھر آ گئے۔ عورتوں نے رو رو کر دہائی دی، اور کہا کہ ان کا کیا قصور ہے؟ انہیں بیوہ اور بچوں کو یتیم نہ کرو۔ شہاب کی بیوی نے آہ زاری کرتے ہوئے جب اس کی معصوم بیٹیوں کو شاہ بانو کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے پیش کیا، تو اس کے دل میں عورت ہونے کا فطری رحم جاگ اٹھا۔

شاہ بانو نے سوچا کہ میں نے بھی ماں کے مرنے کے بعد یتیمی کا درد سہا ہے، یہ ننھی بچیاں کس گناہ کی سزا بھگتیں؟آخرکار، اس نے انصاف اللہ کی عدالت پر چھوڑ دیا اور حلف نامے پر ٹوٹے پھوٹے دستخط کر دیے۔ اس طرح مقدمہ کمزور ہو گیا۔ وہ اب مدعی نہ رہی۔کچھ ہی عرصہ بعد مجرم سخت سزاؤں سے بچ نکلے اور رہائی پا گئے۔

آج بھی شاید یہ واقعہ چند زندہ پولیس افسران کو یاد ہو گا، اور وہ اس عورت کی ہمت، استقامت اور عظمت کو نہ صرف یاد کرتے ہوں گے بلکہ اس بری عورت کی نیکی کے بھی معترف ہوں گے، جسے لوگ کبھی بلبل ہزار داستان کی رقاصہ کہا کرتے تھے۔

  

Post a Comment

0 Comments

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();