نازو بچپن سے ہی اپنی ماں کے ساتھ ہمارے گھر میں کام کرتی تھی۔ وہ
ایک غریب محنت کش عورت کی بیٹی تھی۔ چودہ برس کی نادان لڑکی، زمانے کی اونچ نیچ سے
بے خبر، اپنی معصوم سوچوں میں گم رہتی۔ دنیا کو اپنے سادہ دل کے آئینے میں دیکھتی،
اس لیے یہ دنیا اُسے بہت اچھی لگتی تھی۔کبھی وہ ایک خوشحال گھرانے کی بیٹی تھی۔
اُس کے والد نثار کی اپنی پھلوں کی دکان تھی۔ نثار ایک ایماندار اور محنتی فروٹ
فروش تھا۔ اُس وقت اُس کی بیوی، بشریٰ نے اچھے دن دیکھے تھے۔ مگر ایک دن نثار کا
ایک آڑھتی سے جھگڑا ہو گیا، جو لین دین کے کسی معاملے پر ہوا۔ بات اتنی بڑھی کہ
دشمنی میں بدل گئی۔ چند دن بعد اُس آڑھتی کے آدمی بازار میں آئے اور نثار کو اُس
کی دکان پر گولی مار کر قتل کر دیا۔نثار کی موت کے بعد جیسے غربت کا قہر اس خاندان
پر ٹوٹ پڑا۔ ان کے گھر میں اناج کا ایک دانہ بھی نہ رہا۔ مگر نازو کو اس سب کی
کڑواہٹ ابھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ فاقے، پریشانی، اور موسم کی سختیاں ان
کے سروں پر سایہ کیے رکھتی تھیں۔نازو ابھی ایک بچی تھی۔ اُس کی خواہشوں کی دنیا
ابھی سوئی ہوئی تھی۔ اُسے خود کو سنبھالنے کا شعور نہ تھا۔ روکھی سوکھی جو ملتی،
کھا لیتی۔ بدن سنبھالنے کی عمر اور ہوش ابھی نہیں آیا تھا۔اس کی ماں، بشریٰ، محنت
مشقت کرتی، مختلف گھروں میں صفائی، برتن، اور کپڑوں کا کام کرتی۔ نازو فارغ وقت
میں آنگن میں ادھر ادھر گھومتی، کھڑکیوں سے جھانکتی، کبھی چھت پر چڑھ جاتی۔ وہ
تنہائی سے گھبرا جاتی، اُس کا دل کہیں نہ لگتا۔ ماں کے ساتھ گھروں میں کام پر جانا
چاہتی، مگر ماں اُسے ساتھ لے جانے سے کتراتی۔ نازو کو دوسروں کے گھروں میں
جھانکنے، ان کی باتیں سننے میں عجیب سی دلچسپی تھی۔ کبھی کبھار اُسے ایسی بھول
بھلیوں جیسی باتیں سننے کو ملتیں جنہیں سن کر وہ گھبرا جاتی اور شرم سے چہرہ
اوڑھنی میں چھپا لیتی۔ماں جب اُسے دیکھتی تو غصے سے کہتی کہ میرے پیچھے پیچھے چلی
آتی ہے، اور اوپر سے بڑوں کی باتوں میں گھس کر کان لگاتی ہے، یہ لڑکیوں کے سننے کی
باتیں نہیں ہوتیں۔بشریٰ کی تین بیٹیاں تھیں۔ نازو سب سے چھوٹی تھی۔ بڑی بیٹیاں
جوان ہو چکی تھیں، اور ماں کو ان کے رشتوں کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ وہ ہمارے گھر
کے علاوہ دو اور گھروں میں بھی کام کرتی تھی تاکہ بیٹیوں کی شادی کا کچھ بندوبست
ہو جائے۔ایک دن ماں نے نازو کو سمجھایا کہ جب کوئی عورت رشتہ دیکھنے آئے تو تم
سامنے نہ آنا، کیونکہ آج کل لوگ بڑی لڑکیوں کو چھوڑ کر چھوٹی پر نظریں جماتے ہیں،
اس لیے تم چھپ جانا۔ایک روز خالہ رفیعہ آئی، اُس کے ساتھ کچھ اور عورتیں بھی تھیں۔
اُس وقت نازو کی ماں کام پر گئی ہوئی تھی۔ دروازہ نازو نے کھولا۔ وہ ابھی نہا کر
نکلی تھی اور بالوں میں کلپ لگا رہی تھی۔ خالہ رفیعہ نے نازو کا اجلا، چمکتا چہرہ
دیکھا تو چونک گئی۔ کہنے لگی، نازو تم تو بڑی ہو گئی ہو، کیا خوبصورتی نکالی ہے۔
اچھا، ماں کو بلا لاؤ، کہنا خاص مہمان آئے ہیں، ضروری کام ہے۔نازو نادان ضرور تھی
مگر یہ باتیں سمجھنے لگی تھی۔ فوراً سمجھ گئی کہ یہ عورتیں اُس کی بڑی بہنوں کا
رشتہ دیکھنے آئی ہیں۔ اس خیال سے اُس کے چہرے پر چمک آ گئی۔ اس نے کہا کہ خالہ آپ
بیٹھیں، میں ابھی ماں کو لے کر آتی ہوں۔وہ دوڑتی ہوئی سیٹھ فہیم کے گھر گئی، جہاں
اُس کی ماں کام کر رہی تھی۔ بیل دی۔ سیٹھ فہیم کا بیٹا، شعیب، باہر آیا۔ نازو نے
ہلکی سی آواز میں پوچھا کہ شعیب بھائی، کیا میری ماں اندر ہے؟ماں آئی، اور رشتہ
دیکھنے والی عورتوں سے ملی۔ عورتوں نے رسمی باتیں کیں، اور خالہ رفیعہ نے بڑی
بیٹیوں کی طرف اشارے کر کے ان کی تعریف کی۔ مگر ایک دو عورتوں کی نظریں بار بار
نازو کی طرف اٹھتیں، جو ایک کونے میں چپ چاپ کھڑی تھی۔جب وہ سب چلی گئیں، تو بشریٰ
دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ پھر آہستہ سے بولی کہ یہ دنیا بہت ظالم ہے۔ کبھی بیٹیاں
جوان ہو جائیں تو بھی رشتے نہیں آتے، اور کبھی چھوٹی بیٹی کی جوانی ماں کے خواب
چھین لیتی ہے۔نازو چپ چاپ اپنی ماں کا چہرہ دیکھتی رہی۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا، مگر
اُس کی آنکھوں میں ایک انجان سا خوف اتر آیا تھا۔ شاید بچپن اب اس کے ہاتھ سے پھسل
رہا تھا، اور اُسے اس کا پتہ بھی نہ چلا۔
اس دن کے بعد ماں کی آنکھیں جیسے نازو کے چہرے پر جم سی گئیں۔ وہ
اکثر چپ رہنے لگی۔ بڑی بیٹیوں کے لیے جو رشتے آتے، وہ نازو کو دیکھ کر بدل جاتے۔
ماں کا دل ہولتا، جیسے کوئی سایہ ہے جو چھوٹی بیٹی کے وجود پر منڈلا رہا ہے۔خالہ
رفیعہ دوبارہ آئی۔ اس بار وہ تنہا تھی، اور بات کچھ اور لے کر آئی تھی۔ اُس نے دبے
لفظوں میں بشریٰ سے کہا کہ ایک جاننے والا ہے، بہت اچھا خاندان ہے، تھوڑا عمر میں
بڑا ہے، مگر عزت دار آدمی ہے۔ تمہاری چھوٹی بیٹی پسند آ گئی ہے۔ کچھ کرنا پڑے گا
بشریٰ، موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پچھتاؤ گی۔شریٰ کا دل دہل گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔
وہ جانتی تھی کہ یہ عزت دار مرد کون ہو سکتا ہے۔ شاید وہی جو بازار میں اُس کے کام
کرتے وقت نازو کو دیکھا کرتا تھا۔ مگر غربت، رشتوں کی بندش، اور تنہا ماں ہونے کا
بوجھ اُس کی سوچ پر حاوی آ گیا۔چند دنوں بعد، نازو کو صاف کپڑے پہنائے گئے، اُس کے
بال سنوارے گئے، اور ماں نے کہا کہ بیٹا، ہم کہیں مہمانوں کے ہاں جا رہے ہیں، تم
اچھی بچی بن کے رہنا۔وہ اس مہمانی سے بے خبر تھی۔اُس روز نازو کی منگنی کر دی گئی،
ایک پچاس سالہ شخص کے ساتھ، جو شہر سے باہر کسی گاؤں میں رہتا تھا۔ نازو کی عمر
ابھی صرف پندرہ سال تھی۔شادی جلدی کر دی گئی۔ نازو کو اُس شخص کے ساتھ ایک پرانے
سے گھر میں بھیج دیا گیا۔ وہاں صرف وہ شخص، اس کی پہلی بیوی جو بیمار تھی، اور ایک
ملازم رہتے تھے۔نازو کے لیے وہ گھر قید خانہ بن گیا۔ نہ تعلیم، نہ ہم عمر ساتھی،
نہ ہنسی، نہ کھیل۔ وہ جو کبھی چھت پر چڑھ کر پرندے دیکھا کرتی تھی، اب دن رات
خاموشی سے بیٹھی رہتی۔کچھ ماہ بعد وہ ماں بننے والی تھی۔ اُس کے اندر بچپن مر چکا
تھا، اور ماں بننے کی تیاری ایک عجیب سی ادھوری سنجیدگی کے ساتھ ہو رہی تھی۔وقت
گزرتا رہا۔ نازو نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ اُس کے دل میں ایک نئی امید جاگی۔ شاید
وہ اپنی بیٹی کو وہ سب کچھ دے سکے گی، جو اُسے نہیں ملا۔شوہر بیمار ہونے لگا، اور
پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ زندگی کی رفتار بدلی۔ نازو نے گھر سنبھالنا شروع کیا،
لوگوں سے بات کرنا سیکھی، تھوڑی بہت لکھائی پڑھائی بھی سیکھ لی۔ اُس نے مقامی
اسکول میں نوکری کے لیے درخواست دی، اور قسمت سے وہاں اُسے چھوٹے بچوں کو پڑھانے
کا موقع مل گیا۔نازو اب بیس سال کی ہے، ایک بیٹی کی ماں، اور ایک عورت جو وقت سے
پہلے بڑی ہو گئی۔ اُس کی آنکھوں میں اب بھی خواب ہیں، مگر اُن خوابوں کی شکل بدل
چکی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو پڑھانا چاہتی ہے، اُسے چھتوں پر اڑنے دینا چاہتی ہے، بنا
کسی خوف کے۔
0 Comments